Mymenu

Pages

بسم الله الرحمن الرحيم


فلسفہ فنا فی اللہ و بقا باللہ
حافظ صاحب رحمتہ اللہ علیہ زمانہ ماضی میں اکثر حضور صابر پاک رحمتہ اللہ علیہ سے سوال کیا کرتے تھے کہ حضور ! فلسفہ فنا فی اللہ و بقا باللہ کیا ہے؟ مگر سرکار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے کہ کبھی پھر تمہیں بتا دیں گے، اس کے بعد خاموشی چھا جاتی، آج جبکہ حضور صابر پاک رحمتہ اللہ علیہ وصال فرماگئے اور حافظ صاحب رحمتہ اللہ علیہ بھی وہ سوال بھول چکے تھے کہ اتنے میں وہ برقع پوش امام اپنے گھوڑے کی باگ پکڑ کر سوار ہونا ہی چاہتا تھا، آپ کو خیال آیا کہ اگر کل کو لوگ مجھ سے پوچھیں کہ تمہارے شیخِ کامل کا جنازہ کس نے پڑھایا تو میں کیا جواب دوں گا؟ یہ سوچ کر آپ ان کی جانب بڑھے اور گھوڑے کی لگام تھام لی، عرض کیا : حضور! مجھے اپنا تعارف توکراتے جائیے تاکہ میں لوگوں کو بتا سکوں کہ میرے مرشد کامل کا جنازہ کس نے پڑھایا ہے؟ یہ سن کر انہوں نے بجائے جواب دینے کے الٹا سوال کر دیا: اے شمس! کیا تم کبھی اپنے شیخ سے مقام فنا فی اللہ اور بقا باللہ کے متعلق دریافت کیا کرتے تھے؟ حافظ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اثبات میں سر ہلایا، تب انہوں نے کہا: وہ کیا فرمایاکرتے تھے؟ عرض کی: وہ فرماتے تھے کہ کبھی تمہیں مشاہدہ کرا دیں گے۔ یہ سنتے ہی برقع پوش نے کہا: لو آج وہ وقت آ گیا ہے، یہ کہہ کر عنصر پاک کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ وہ مقام فنا ہے، پھر اپنے چہرئہ مبارک سے نقاب اٹھا دیا اور اپنی طرف اشارہ کر کے فرمایا: یہ مقام بقا ہے۔ حافظ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے جب نظر اٹھا کر شاہسوار کی طرف دیکھا تو حیران رہ گئے کہ وہی حضور صابر پاک رحمتہ اللہ علیہ گھوڑے پر سوار مسکرارہے ہیں۔

اپنا جنازہ پڑھ کر تونے بتا دیا ہے
ہر دور میں جواں ہیں صابرؒ پیا ہمارے



حضور صابر پاک رحمتہ اللہ علیہ کو آنکھوں کے سامنے محو گفتگو دیکھ کر حافظ صاحب رحمتہ اللہ علیہ بے ہوش ہوگئے۔


وہ آئے بزم میں اتنا تو یاد ہے مجھ کو
پھر اُسکے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

بحوالہ آفتابِ کلیر رحمتہ اللہ علیہ
مُرتب: ڈاکٹر پیر عمران صابر صابری کلسوی

صابری دُرگاہ مہاجرین کلس شریف براستہ جھال چکیاں لک موڑ روڈ، چک ۵۷ شمالی نزد گریڈ اسٹیشن سرگودھا

آمدو رفت